نئی دہلی، 10؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)وزارت قانون نے آج کہا کہ عام نظریے کے برعکس ججوں کی کمی بڑھتے زیر التوا مقدمات کی واحد وجہ نہیں ہے۔وزارت نے اس بات کی حمایت میں دہلی اور گجرات جیسی ریاستوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا جس میں کافی جج ہیں۔آبادی کے تناسب کے باوجود معاملات نمٹانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔وزارت کے اس نوٹ سے کچھ ماہ پہلے چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر نے زیر التوا معاملات سے نمٹنے کے لئے ججوں کی موجودہ تعداد 21ہزار سے بڑھا کر 40ہزار کرنے میں عاملہ کی بے غیرپر مایوسی ظاہر کی تھی۔وزارت نے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے معاملات کو نمٹانے میں تاخیر میں شراکت پر بہت سے عوامل میں عدالتی انتظام کی کمی، مسلسل سماعت کا ملتوی ہونا، وکلاء کی ہڑتال، پہلی اپیل کا جماؤڑہ، رٹ کاکثیرتعدادمیں آنا وغیرہ شامل ہیں ۔ان اعداد و شمار کے مطابق دہلی اور گجرات جیسی ریاستوں میں آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ جج ہیں پھربھی یہ ریاستیں زیر التوا معاملوں کو نمٹانے میں جدوجہد کر رہی ہیں۔دہلی کے جج آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر جبکہ گجرات اس معاملے میں پانچویں نمبر پر ہے۔اس میں کہا گیا کہ اس کے برعکس، تمل ناڈو اور پنجاب جیسی ریاستوں میں جج آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بہت نیچے ہیں لیکن ان ریاستوں میں تقابلی طور پر کم زیر غور معاملات ہیں۔قومی انصاف اور قانونی اصلاحات مشن کی مشاورت کونسل کے لئے وزارت کی طرف سے تیار نوٹ میں کہا گیا کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے مسئلے کو صرف ججوں کی کمی سے جوڑنا غالبا پوری تصویر پیش نہیں کرتا ہے۔ہندوستان میں تقریبا تین کروڑ معاملات عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔